اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستان کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کر کے لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر بحث کی گئی، اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نریندر مودی گجرات سے قتل عام کا جو ورثہ لائے اسے پورےخطے پر مسلط کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کی سرحدوں، فضائوں اور پانیوں کا دفاع مکمل صلاحیت کے ساتھ کر رہے ہیں۔
پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ہر معاملے پر مذاکرات کے لئے تیار ہے بشرطیکہ ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہو- انہوں نے کہا کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتے ہیں اور بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیارہیں، تاہم کشمیرکا مسئلہ مذاکرات کے ایجنڈے میں ہوگا تو ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کریں گے-
قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہندوستان مسئلہ کشمیرسے توجہ ہٹانے کے لیے ایل اوسی پرکشیدگی بڑھا رہا ہے اورجان بوجھ کرشہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مشیرخارجہ نے مزید کہا کہ کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنی توانائیاں دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے پر صرف کرے۔ ترجمان نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے امکان کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ مذاکرات اور دہشتگردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج گردوں کی بیماری کے باعث اگلے ماہ امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گی۔
.......
/169